:
Breaking News

India News: Parliament News: Delhi News: پارلیمنٹ میں این ڈی اے اور انڈیا بلاک آمنے سامنے، نعرے بازی سے بڑھا سیاسی تناؤ

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | India News | Parliament News | Delhi News | پارلیمنٹ احاطے میں این ڈی اے اور انڈیا بلاک کے ارکان کے احتجاج، پرینکا گاندھی اور بی جے پی ارکان کے درمیان گفتگو اور لوک سبھا میں ہنگامے کی مکمل خبر۔

نئی دہلی، 11 اگست۔ عالم کی خبر: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آخری مرحلے میں منگل کے روز سیاسی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی، جب حکمراں اتحاد این ڈی اے اور اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کے ارکان پارلیمنٹ احاطے میں ایک دوسرے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آمنے سامنے آگئے۔ دونوں جانب سے نعرے بازی کی گئی اور ایک دوسرے پر پارلیمانی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے۔

این ڈی اے ارکان نے اپوزیشن پر پارلیمنٹ میں بحث سے فرار اختیار کرنے اور مسلسل ہنگامہ کرنے کا الزام لگایا۔ دوسری جانب اپوزیشن ارکان نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے طلبہ کے خلاف ہوئی پولیس کارروائی پر جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان سیاسی تلخی صاف نظر آئی۔

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی کے پارلیمنٹ پہنچنے کے بعد بی جے پی ارکان نے راہل گاندھی کے خلاف نعرے لگائے۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ مکیش دلال نے راہل گاندھی سے متعلق سوال اٹھایا کہ وہ جھارکھنڈ میں احتجاج کرنے والے طلبہ سے ملاقات کیوں نہیں کر رہے ہیں۔ اس پر پرینکا گاندھی ان کے قریب پہنچیں اور کہا کہ راہل گاندھی جھارکھنڈ جا چکے ہیں اور وہاں طلبہ سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔

پارلیمنٹ کے باہر جاری سیاسی کشیدگی کا اثر ایوان کے اندر بھی دکھائی دیا۔ لوک سبھا کی کارروائی ہنگامے کے باعث پہلے ملتوی کی گئی۔ دوپہر دو بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی، لیکن نعرے بازی اور احتجاج کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہی ہنگامے کے سبب لوک سبھا کی کارروائی بدھ تک ملتوی کر دی گئی۔

راجیہ سبھا میں بھی اپوزیشن کی جانب سے احتجاج جاری رہا۔ اپوزیشن جماعتیں 20 جولائی کو دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ مظاہرین کے خلاف ہوئی پولیس کارروائی کا معاملہ مسلسل اٹھا رہی ہیں۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں وضاحت کریں کہ طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کا حکم کس کے کہنے پر دیا گیا تھا۔

حکومت نے پیر کے روز کہا تھا کہ وزیر داخلہ امت شاہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہیں۔ تاہم راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن صرف وزیر داخلہ کا مؤقف سننا نہیں چاہتی، بلکہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کا حکم آخر کس نے دیا تھا۔

ادھر مرکزی وزیر کرن رجیجو نے وزیر داخلہ امت شاہ اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد حکومت کی جانب سے یہ اشارہ ملا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی اور مبینہ طور پر ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے الزامات پر پارلیمنٹ میں بحث کرائی جا سکتی ہے۔

پارلیمنٹ میں سیاسی ہنگامے کے درمیان قانون سازی کا کام بھی آگے بڑھا۔ لوک سبھا نے اپوزیشن کے احتجاج اور نعرے بازی کے دوران کیرالہ کا نام بدل کر ’کیرالم‘ کرنے سے متعلق بل اور قومی کوآپریٹو ترقیاتی کارپوریشن سے متعلق بل منظور کر دیے۔

اپوزیشن کا الزام ہے کہ کئی اہم بل مناسب بحث کے بغیر منظور کیے جا رہے ہیں۔ اس کے برعکس حکومت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کو ایوان میں بحث میں حصہ لینا چاہیے اور اپنے اعتراضات پارلیمانی طریقے سے سامنے رکھنے چاہئیں۔

’وندے ماترم‘ سے متعلق قانون سازی بھی منگل کو توجہ کا مرکز رہی۔ صدر دروپدی مرمو نے اس سے متعلق بل کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے بعد قومی گیت کو قانونی تحفظ دینے کی سمت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ جان بوجھ کر قومی گیت کی توہین کرنے یا اس کے گائیکی میں رکاوٹ ڈالنے پر سزا، جرمانہ یا دونوں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

پارلیمنٹ کا موجودہ مانسون اجلاس 20 جولائی سے شروع ہوا تھا اور 13 اگست کو ختم ہونا ہے۔ تقریباً تین ہفتوں کے دوران مختلف سیاسی اور عوامی مسائل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مسلسل اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ہنگامے کی وجہ سے پارلیمنٹ کی کارروائی کئی مرتبہ متاثر ہوئی اور کئی اہم معاملات پر تفصیلی بحث نہیں ہو سکی۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت سے سوال پوچھنا اور جواب طلب کرنا اس کا جمہوری حق ہے۔ دوسری طرف حکمراں جماعتوں کا الزام ہے کہ اپوزیشن بحث کے بجائے نعرے بازی کا راستہ اختیار کر رہی ہے، جس سے پارلیمنٹ کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔

اب اجلاس کے آخری دو دن حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری تعطل کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ اگر دونوں فریق اپنے موجودہ موقف پر قائم رہتے ہیں تو اجلاس کے آخری دن تک پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاسی سرگرمیاں تیز رہنے کا امکان ہے۔

طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر اگر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہوتی ہے تو یہ مانسون اجلاس کے اختتامی مرحلے کا سب سے اہم سیاسی موضوع بن سکتا ہے۔ فی الحال حکومت بحث کے لیے آمادگی ظاہر کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن کارروائی کی ذمہ داری طے کرنے اور واضح جواب کا مطالبہ کر رہی ہے۔

منگل کے واقعات نے ایک بار پھر ظاہر کر دیا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی فاصلے کم نہیں ہوئے ہیں۔ ایک طرف حکومت باقی ماندہ قانون سازی مکمل کرنا چاہتی ہے، تو دوسری طرف اپوزیشن مختلف معاملات پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسے میں پارلیمنٹ کے آخری دن تک سیاسی گرما گرمی برقرار رہنے کے امکانات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

طلبہ پر پولیس کارروائی کا معاملہ پارلیمنٹ میں گرم، اپوزیشن نے حکومت سے جواب مانگا

مانسون اجلاس میں مسلسل ہنگامہ، اہم بلوں پر بھی حکومت اور اپوزیشن میں ٹکراؤ

پارلیمنٹ میں ہنگامے کے بجائے بامعنی بحث ضروری

پارلیمنٹ جمہوری نظام کا سب سے اہم ادارہ ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن کو عوام سے متعلق مسائل پر بحث اور ایک دوسرے سے سوال و جواب کرنا ہوتا ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا لازمی حصہ ہے، لیکن اگر اختلاف مسلسل ہنگامے اور کارروائی ملتوی ہونے کی صورت اختیار کر لے تو اس کا نقصان براہ راست عوامی مسائل کو ہوتا ہے۔

طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے میں اپوزیشن جواب طلب کر رہی ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ ایوان کے اندر اپنا موقف مکمل حقائق کے ساتھ پیش کرے۔ اگر کسی کارروائی میں قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے، اور اگر حکومت کے پاس اس کارروائی کا کوئی جواز ہے تو اسے بھی پارلیمنٹ کے سامنے واضح کیا جانا چاہیے۔

اسی طرح قانون سازی کے دوران مناسب بحث بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں قانون صرف اکثریت کی بنیاد پر منظور کرنے کا ادارہ نہیں بلکہ اس کا مقصد مختلف آرا کو سننا اور بہتر قانون بنانا بھی ہے۔ اپوزیشن کے اعتراضات اور تجاویز قانون سازی کے عمل کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔

اس لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو سیاسی ٹکراؤ کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سنجیدہ سوالات کے جواب دے اور اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمانی کارروائی کو مؤثر انداز میں آگے بڑھنے دے۔

عوام نے اپنے نمائندوں کو پارلیمنٹ میں بھیج کر ان سے یہی توقع کی ہے کہ وہ عوامی مسائل اٹھائیں گے، حکومت سے جواب طلب کریں گے اور ملک کے لیے بہتر قوانین بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اجلاس کے باقی دنوں کو ہنگامے کے بجائے بامعنی بحث کے لیے استعمال کرنا ہی پارلیمانی جمہوریت کے مفاد میں ہوگا۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *